ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ڈانڈیلی میں گھوٹالوں کا پردہ فاش : کیااسکول پہنچنے سے پہلے  ہی ہورہی ہے اسکولی بچوں کے سرکاری اناج کی چوری ؟

ڈانڈیلی میں گھوٹالوں کا پردہ فاش : کیااسکول پہنچنے سے پہلے  ہی ہورہی ہے اسکولی بچوں کے سرکاری اناج کی چوری ؟

Thu, 23 Feb 2017 21:48:01    S.O. News Service

ڈانڈیلی:23/فروری    (ایس او نیوز) ریاستی حکومت کے بہت ہی اہم منصوبے اکشر داسوھا (گرم کھانا)کے چاول ، دال دھنیا وغیرہ اسکول کی ضرورت کے مطابق فراہم نہیں ہورہے ہیں، اسکول کے لئے دئیے گئے اناج  راستے کے درمیان میں ہی نکال دئے جاتے ہیں اور کسی اور جگہ سپلائی کئے جارہے ہیں، اس بات کا الزام پچھلے کئی دنوں سے عوامی سطح پر گردش میں تھا۔ اس کے جیتے جاگتے ثبوت کے طورپر بدھ کو ہلیال ۔ ڈانڈیلی سڑک کےانجان علاقہ میں اکشر داسوھا کا اناج سپلائی کرتے ہوئے ایک سواری کو دیکھا گیا ہے، جس کے متعلق شبہ جتایا گیا ہے کہ یہ غیرقانونی طورپر سپلائی کیا جارہاہے۔ لیکن محکمہ کے افسران غیر قانونی سپلائی سے یکسر انکار کررہے ہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ ہلیال اور جوئیڈا تعلقہ کے لئے اکشر داسوھا منصوبے کے لئے گدگ کے گوی سدیشور ٹریڈنگ کمپنی کی طرف سے ایک لاری 400 تھیلوں میں توردال اور دیگر اشیا کا لوڈ لےکر بدھ کو پہنچی تھی۔  متعلقہ لاری کو ہلیال کے محکمہ اناج کے گودام میں 300تھیلوں کو اتارناتھا، لیکن لاری تھیلوں کو اتارے بغیر ہلیال سے 3کلومیٹر دورانجان مقام پر چلی گئی، جہاں مبینہ طور پر لاری سے  ٹاٹا ایس رکشا میں کچھ تھیلوں کو لوڈ کیا کیا۔وہاں موجود ایک رپورٹر جو معاملہ کا عینی شاہد ہے نے تحصیلدار کو شکایت دی۔ اطلاع پاتے ہی جائے وقوع پرپہنچے محکمہ اناج کے آفیسر نے لاری اور ٹاٹاایس رکشاکو تحصیلدار دفتر لے گئے۔ 

معاملے کو لے کر رپورٹر نے جب لاری ڈرائیور سے سوال کیا تو اُس نے بتایا کہ اُس کی  لاری خراب ہوگئی تھی جوئیڈا لے جاناممکن نہیں تھا، اسی لئے جوئیڈا کے محکمہ اناج کے عملے کو اطلاع دے کر دوسری سواری کے ذریعے سپلائی کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ جوئیڈا کے کے ایف سی ایس سی کا عملہ بودپنور جائے وقوع پر موجود رہتے ہوئے لاری سے رکشا میں تھیلوں کو لوڈ کرنے میں تعاون کرتے ہوئے دیکھا گیا  ، یہاں بودپنور نے عوام کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینےمیں پیچیدگی کا شکار ہوگئے تھے۔ جب عملے سے پوچھا گیا کہ کیا اس سلسلے میں اعلیٰ افسران کو اطلاع دی گئی تھی تو عملے نے کہاکہ نہیں ۔ جب رپورٹر نے جوئیڈا تعلقہ کے اکشر داسوھا افسران سے رابطہ کیاتو انہوں نے کہاکہ ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ آج اناج آنے والا ہے۔

ہلیال میں 320توردال کے تھیلوں کو اتارے بغیر لاری ڈرائیور ہلیال سے تین کلومیٹر دور تک کیوں چلا آیا؟ہلیال میں ہی کیوں نہیں اتارا؟ہلیال سے پاس ہوکر 3کلومیٹر کے بعد لاری خراب ہونے کا کیا مطلب؟ ہلیال میں 320تھیلے اتار کر جوئیڈا کے لئے آگے بڑھنا تھا، لیکن یہاں لوڈ کردہ لاری لے کر جوئیڈا جانا، پھر وہاں سے واپس آنے میں کیا تُک کام کررہاہے؟ لاری خراب ہوئی تھی تو آفیسر نے تحصیلدار دفتر تک لاری کیسے لایا ؟ یہ اور ایسے کئی سوالات ہیں جو بہت سارے شکوک کو جنم دےرہے ہیں۔ معاملے کو لے کر ہلیال کے تحصیلدار ودیادھر گولگولی نے کہاہے کہ پنچ نامہ کرنے کے بعد ضلعی افسران کے ساتھ معائنہ کیا ہوں، لاری ڈرائیور سے بھی پوچھ تاچھ ہوئی ہے، لیکن ہلیال میں اناج کے تھیلوں کو اتارے بغیر جوئیڈا کی طرف بڑھنا واقعی میں شکوک کوجنم دیتاہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس سلسلے میں مزید جانچ کرکے تفصیلی رپورٹ حاصل کی جائے گی۔


Share: